بھٹکل،28 / فروری (ایس او نیوز) بھٹکل بلاک کانگریس کے صدر وینکٹیش نائک نے ایک پریس کانفرنس کے دوران رکن اسمبلی سنیل نائک پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ایم ایل اے نے 'ناگ بنا' مسئلہ کو اپنے سیاسی مفاد کے لئے استعمال کیا ہے ۔
وینکٹیش نائک نے کہا کہ 2017 میں جب منکال وئیدیا رکن اسمبلی تھے تو انہوں نے ناگ بنا کی از سرنو بحالی کے لئے 7.50 لاکھ روپے کا فنڈ منظور کروایا تھا ۔ لیکن اس وقت کچھ لوگوں نے ناگ بنا سے متعلقہ زمین کا دوبارہ سروے کروانے اور پوری 0-03-08 زمین تحویل میں لیے بغیر کسی بھی قسم کا تعمیری کام نہ کرنے کی ضد پکڑ رکھی تھی ۔ اس لئے وہ کام ادھورا رہ گیا تھا ۔ ورنہ منکال وئیدیا کے زمانے میں ہی ناگ بنا کی از سرنو تعمیر اور بحالی کا کام مکمل ہوگیا ہوتا ۔ منکال وئیدیا نے اس مسئلہ پر کبھی سیاسی فائدہ نہیں اٹھایا تھا ۔
وینکٹیش نے بتایا کہ ابھی کچھ عرصہ پہلے اسی ناگ بنا کے مسئلہ پر اسسٹنٹ کمشنر کے ساتھ منعقدہ میٹنگ کے دوران ایم ایل اے سنیل نائک نے کہا تھا کہ حکومت کی طرف سے میں نے فنڈ منظور کروایا ہے ۔ اگر اس کا استعمال نہیں ہوا تو یہ فنڈ واپس چلا جائے گا ۔ اب اگر یہ حقیقت ہے تو پھر کچھ لوگوں کی طرف سے جو تشہیر کی جا رہی ہے کہ ایم ایل اے نے اپنے ذاتی فنڈ سے یہ تعمیری کام کروایا ہے ، اس کا مطلب کیا ہے ۔ اس کے بارے میں خود ایم ایل اے کو اپنی طرف سے حقیقت بیان کرنا چاہیے اور عوام کی الجھن کو دور کرنا چاہیے ۔ ہمیں لگتا ہے کہ ناگ بنا کی ترقی اور تعمیر کے مسئلے کو بھی ایم ایل اے سنیل نائک جھوٹ کا سہارا لے کر اپنے مفاد کے لئے استعمال کر رہے ہیں ۔
بی جے پی پر سیدھا نشانہ سادھتے ہوئے وینکٹیش نائک نے کہا کہ بی جے پی والوں کو الیکشن قریب آتے ہی 'ناگ بنا، چوڑی منے، دیوستھان' کی یاد آتی ہے ۔ گزشتہ الیکشن کے وقت بھی بندر روڈ پر واقع ناگ بنا کے اندر گائے کا گوشت پھینک کر مقدس جگہ کو ناپاک کرنے کی سازش رچی گئی تھی ۔ اُس وقت پی ایس آئی کی ذمہ داری ادا کر رہی ریوتی نے اس ناپاک حرکت میں ملوث چار لوگوں کی نشاندہی کرلی تھی اور انہیں گرفتار کرنا چاہتی تھیں ، لیکن اسے ذہنی طور پر ہراساں کیا گیا اور فرائض کی انجام دہی میں رکاوٹیں پیدا کی گئیں جس کے بعد وہ استعفیٰ دینے اوربھٹکل چھوڑکرجانے پرمجبورہوگئیں۔ اب ریاست اورمرکزدونوں جگہ بی جے پی کی حکومت رہنے کے باوجود کیوں یہ لوگ ناگ بنا کو ناپاک کرنے والوں کی گرفتاری کا مطالبہ نہیں کر رہے ہیں ۔
وینکٹیش نائک نے کہا کہ چند دن قبل بی جے پی کے جنرل سیکریٹری سی ٹی روی نے بھٹکل دورہ کے موقع پر رکن اسمبلی سنیل نائک کے گھر پر مچھلی اور گوشت کھانے کا اعتراف کیا ہے اور ناگ بنا کے باہر سے ہاتھ جوڑ کر سلامی دینے کی بات کہی ہے ۔ لیکن اسی دن انہوں نے بھٹکل کے مشہور کریبنٹا مندر میں اندر داخل ہوکر پوجا بھی کی ہے ۔ سنیل نائک نے گوشت کو گوبھی منچورین بتا کر خود دیوتاوں کو بھی دھوکا دینے کا کام کیا ہے ۔
وینکٹیش نائک کا کہنا تھا کہ سابق رکن اسمبلی منکال وئیدیا نے بھٹکل اسمبلی حلقہ میں %80 مندروں، ناگ بنا، مٹھ وغیرہ کے لئے امدادی رقم فراہم کی ہے مگر انہوں نے کبھی اسے اپنی تشہیر اور سیاسی مفاد کے لئے استعمال نہیں کیا ۔ وینکٹیش نائک نے یہ بھی کہا کہ منکال وئیدیا نے ایودھیا میں رام مندر میں سب سے زیادہ رقم یعنی ایک لاکھ روپے کا عطیہ دیا۔ اس لئے بی جے پی والوں سے منکال وئیدیا کو ہندوتوا کا سبق سیکھنے کی ضرورت نہیں ہے ۔
وینکٹیش نائک نے سنیل نائک پر طنز کستے ہوئے بتایا کہ منی ودھان سودھا میں ایم ایل اے کے دفتر پر گزشتہ چار سال سے تالا پڑا ہوا ہے ، جس کی وجہ سے اس دفتر تک پہنچ کر عوام کے لئے اپنے ایم ایل اے سے رابطہ قائم کرنا ممکن نہیں ہوتا ۔ چونکہ ایم ایل اے سنیل نائک اپنے گھر سے متصل شراب کی دکان کے بازو میں اپنا دفتر چلاتے ہیں ، اس لئے عزت دار لوگ وہاں جانے سے کتراتے ہیں۔
پریس کانفرنس میں کانگریس کے کئی لیڈران اور ذمہ داران موجود تھے۔